|
گوادر ( پ ر ) بلوچ نیشنل مومنٹ کے مرکزی سیکریٹری
اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ بی این ایف کے
کارکنان کے خلاف بلوچستان بھر میں کریک ڈاﺅن کا سلسلہ شروع کیاگیاہے،کو
ئٹہ سے مرکزی کمیٹی کے دوممبران کو اغواءکر کے لاپتہ رکھاگیاہے جب کہ
نال میں گرفتاری کے لےے سر چ آپریشن کیا جارہاہے ، گزشتہ دنوںنال میں
بی این ایم کے مرکزی کمیٹی کے سابقہ ممبر چیف محمد بخش کے گھر کی ناکہ
بندی کر کے دیواروں پر فائرنگ کر کے خوف وہراس پھیلایا گیا۔ بیان میں
پارٹی کارکنان سے کہاگیاہے کہ وہ حوصلہ مند رہیں کیوں کہ وہ حق پر ہیں
اور فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے ۔بیان میں مزید کہاگیاہے کہ بلوچ سر
مچاروں سے شکست کھانے کے بعد پنجابی تنخواہ دار فورسز غیر مسلح سیاسی
کارکنان سے بدلہ لے رہی ہیں۔25اگست کو نعرہ تکبیر بلندکر کے ایف سی کے
باریش اہلکاروں نے بی این ایف کے پرامن سیاسی جلسے پر فائرنگ کی جس کے
نتیجے میں 17افراد زخمی اور بی این ایم کا کارکن الطاف بلوچ شہید ہوگئے
۔ دشمن الطاف بلوچ کی شہادت کو ہماری شکست سمجھ کر ایک مرتبہ پھر اپنی
غلطیوں کو دہرارہاہے بلوچ گزشتہ ساٹھ سالوں سے اپنی آزادی کے لےے جانوں
کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ تحریک اس قدر مضبوط ہوچکی ہے کہ بی این ایم
میں لوگ اپنے گروہی مفادات کے لےے نہیں شہادت کا جذبہ لے کر شامل ہورہے
ہیں ۔شہید الطاف کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ وہ بھی بلوچ شہداءکی طرح
مادر وطن کی آزادی کی تحریک میں دشمن کی گولی کھاکر جاں بحق ہوں ہمیں
ان کی تحریک سے سچی وابستگی پر ہمیشہ فخر رہے گا ۔ جمہوریت کی راگ
الاپنے والی اُن سیاسی جماعتوں کے لےے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جنہوںنے
دعویٰ کیاتھاکہ بلوچستان کامسئلہ جمہوریت سے پیوستہ ہے ۔ظلم وجبر کا یہ
تلسل ہمارے دعوے کودرست ثابت کرتے ہیں کہ بلوچ مسئلہ آمریت اور
پاکستانی عدلیہ کی معزولی نہیں قومی غلامی ہے۔ بلوچ قوم کے لےے پاکستان
کے تمام حکمرانوں کا رویہ ایک جیساہے بلکہ ماضی کی نسبت سیاسی کارکنوں
پر جارحیت اور اغواءنما گرفتاریوں میں اضافہ ہواہے گزشتہ ایک ہفتے میں
دوسوسے زائد کارکنان کی گرفتاریاں کی اطلاعات ہیں جن میں کوئٹہ سے
گرفتار کےے جانے والے بی این ایم کے مرکزی کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر سمیع
اور غفور بلوچ بھی شامل ہیں ۔ بیان میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ بی این
ایم کے کارکنان سر زمین سے کےے گئے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے پاکستان
کے تمام مظالم کا مقابلہ خنداں پیشانی اور استقامت سے کر یں گے ۔پاکستان
نے بلوچوں پربشمول ایٹم بم اپنے تمام ہتھیار استعمال کر لےے ہیںاور
بلوچوں کو صفحہ ہستی سے متانے کی جنون میں خود بھی تباہی کے دہانے پر
کھڑ اہے ۔ اس کے تباہ حال ڈھانچے میں اتنی سکت نہیں رہی کہ بلوچ سر
مچار وں سے الجھ سکے لیکن عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی
خاموشی سے پنجابی شاﺅنسٹ ریاست شہہ پاکر بلوچ نیشنل فرنٹ کے سیاسی
کارکنان پر طاقت آزمارہی ہے جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے یہ سلسلہ اگر
نہیں روکاگیا توسیاسی محاذکی حکمت عملیتبدیل کر کے موثر جواب دیاجائے
گا ۔کارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرہ کارکنان وقتی مصیبتوں سے
گھبراکر مشتعل قطعاًنہ ہوں بلکہ اپنی طاقت مناسب وقت کے انتطار میں بچا
کر ر کھیں۔
|